ہفتہ، 12 مارچ، 2016

چھوٹی شلوار

گرمیوں کے دن تھے ،ہوا بھی ساکن تھی ۔سورج  پورے جاہ وجلال کے ساتھ اپنا قہربرسا رہا تھا ۔ اس عالم میں ایک چودہ پندرہ  سالہ لڑکا جس کا چہرہ قدر ے سانولا ،گلابی ہونٹ اور پتلی ٹانگیں تھیں  اس جلتی دوپہر میں سڑک پر موجود تھا۔گرمی کی شدت سے پیاس اُسے بے حال کئے ہوئے تھی مگر وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا ۔سٹرک کے اختتام سے قبل  ایک ریلوے  پھاٹک  بھی آتا تھا  جہاں اب وہ پہنچ چکا تھا۔وہ پھاٹک کے قریب رُکا  اور متلاشی نظروں سے شمالاً جنوباً پھیلی ریل کی  پٹڑی  کودیکھا۔اسے کسی کی تلاش تھی مگر اُسے وہ نہیں دکھائی دیا جسے دیکھنے کا خواہش مند تھا ۔یہ علاقہ تقریباً دیہاتی تھااور تا حدِ نظر یہاں کھیت آباد تھے ۔پٹڑی کے دونوں اطراف  ہی کھیتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا ،پھاٹک کے قریب ایک اسکول تھا اور اسکول کے پاس چند ریڑھیاں کھڑی رہتی تھیں ، پسینے میں شرابورلڑکا چند لمحے آرام کے لئے ایک سایہ دار درخت کی طرف بڑھا جہاں پگڈنڈی کے کنارے ایک بوڑھا کسان بیٹھا حقّہ پی رہا تھا۔ السلام علیکم داد جی ۔۔۔۔ لڑکے نےقریب جا کر بوڑھے کسان کو سلام کیا۔۔۔ وعلیکم السلام پتر ۔۔۔بوڑھا بزرگ سلام کا جواب دے کر سوالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔ داد جی ادھر پھاٹک کے قریب سیٹھ جعفرصاحب کا گودام کہاں ہے۔۔۔لڑکے نے  پوچھا۔۔۔۔ بیٹھ جا پتر پسینہ سُکھا لو پھر بتاتا ہوں ۔لڑکا بیٹھ گیا ۔ اتنی گرمی میں کہاں جا رہے ہو؟ بوڑھےکسان نے سوال کیا ۔ ادھر گودام میں میرے ابو کام کرتے ہیں تین چار ہفتے ہو گئے گھر نہیں آئے پہلے ہر ہفتے آتے تھے اگر نہ آنا ہوتا تو تار بھیج دیتے مگر اس بار ابو آئے نہ کوئی تار آیا۔۔۔۔ لڑکا گویا ہوا داد جی ۔۔۔۔اچھا اچھا  تو تم اپنے پیو کو ڈھونڈنے جا رہے ہو ؟
کسان نے تائید چاہی ۔۔۔۔۔ جی ہاں داد جی ۔لڑکا بیٹھنے کی چند ساعت بعد اُٹھ کھڑا ہوا ۔بوڑھا کسان ہاتھ  اونچا کیا اور انگلی کے اشارے سے پتہ بتانے لگا ۔۔۔۔ وہ دیکھو۔۔سامنے بڑا سا ٹاور نظر آ رہا ہے ناں اسی ٹاور کے پچھلی طرف سیٹھ جعفر کا 
گودام ہے ۔تم ایسا کرو دائیں طرف والی پٹڑ ی کے ساتھ ساتھ چلتے جاؤ جلد ی پہنچ جاؤ گے ۔ لڑکا  نے سلام کیا اور شکریہ ادا کرتا ہوا وہاں سے چل پڑا۔وہ سٹرک پہ آ کر اسکول کے سامنے سے گزرتا ہوا پھاٹک کی طرف بڑھا ہی تھا کہ  اچانک پیچھے سے آتی ایک موٹر سائیکل پہ سوار چند شرارتی لڑکے موٹر سائیکل کو تیز رفتار ی سے بھگاتے ہوئے لڑکے کے قریب سے گزرے اور اس کے قریب آکرلڑکے کو کٹ مارکر بلند آواز قہقہے لگاتے  ہوئے  سڑک کی ایک سائیڈ میں رک گئے ۔ان میں سے ایک موٹر سائیکل پر کھڑا ہوکر ناچنے لگا،باقی لڑکے  بلند آواز سے شور مچا رہے تھے ،گانے گا رہے تھے۔ موٹر سائیکل لڑکے کو لگی اور  وہ  لڑکھڑاتا  ہوا  نزدیک میں موجود ایک پھل فروش کی ریڑھی سے ٹکرایا اور سٹرک پہ جا گرا ۔شرارتی لڑکے اسے گرتا ہوا دیکھ کر قہقہے لگاتے ہوئے نو دوگیارہ ہو گئے ۔

لڑکے کو موٹر سائیکل اور ریڑھی کی ٹکر سے سر اور بازو پہ  کافی چوٹیں لگی تھیں  ۔ ایک تو شدیدگرمی کی  وجہ سےشدت کی پیاس دوسرے ان  اچانک چوٹوں کے زخم نے لڑکے کو کچھ دیر کے لئے دنیا و مافیا سے بے گانہ کر دیا ۔ادھرپھل فروخت کے بہت سے پھل گر کر اِدھر اُدھر بکھر گئے پھل فروش آگ بگولا ہو گیا اور چیخ اُٹھا ۔۔۔۔اوئے کیا ہے؟؟؟؟  ابے ، دِکھتا نہیں ہےتجھے  یا  اندھا ہے تُو ؟ وہ غصے کے عالم میں تیزی سے اس کے قریب آیاگریبان سے پکڑ کر اسے اُٹھایا ۔لڑکا  لڑکھڑاتا ہوا بمشکل  کھڑا ہوا اور سر سے ٹپکتےخون کو ہاتھ سے صاف کرتےہوئے کراہتی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔ چاچا جی میں جان کر تو نہیں گرا ۔۔۔۔،مجھے تو ان لڑکوں نے ۔۔۔۔۔لڑکے کے بات  ابھی ادھوری ہی تھی کہ  پھل فروش نے اُسے ایک زوردارتمانچہ دے مارا اور گرج کر بولا ۔۔۔۔ اوئے ۔۔۔ میرے ساتھ ڈرامہ بازی کرتا ہے ۔۔۔چل یہ بالٹی پکڑ اور سامنے نلکے سے سارا فروٹ دھو کر لا چل جلدی کر ۔۔۔ پھل فروش نے قریب ہی پڑی ایک بالٹی اٹھا کر اس کے ہاتھ میں تھمادی ۔۔۔۔ لڑکے میں بالکل ہمت نہ تھی مگر نلکے کا سن اس کی  جان میں جان آ گئی اس نے گرتے پڑتے سارے پھل اکھٹے کئے اور انہیں لے کر نلکے پہ پہنچا ۔۔پہلے اس نے جلدی جلدی پانی پیا اور اپنے سر پہ بہتا خون پانی سے دھویااس کے بعد تمام  پھل دھو کر  ظالم وجابرپھل فروش  شخص کو دیے ۔۔ اس منظر کے اطراف میں ہر شخص آپا دھاپی میں لگا ہوا تھا شاید اس قسم کے  واقعات ان کے لیےمعمول کا حصہ ہوں ۔۔لڑکا پٹڑی پہ آ کر دو نوں پٹریوں کے درمیان  چلا ہوا ٹاور کے قریب پہنچ گیا، پٹڑی کے دائیں جانب ٹاور ایستادہ تھا جس کےپیچھے گودام صاف نظر آ رہا تھا پٹڑی کے بائیں جانب  قصبے کاچھوٹا سا بازارِ حسن تھا ۔کچے مکانوں کے باہر چھوٹے چھوٹے درخت لگے ہوئے تھے ان کے نیچےطوائفیں  چارپائیوں پہ براجمان تھیں لڑکا انہیں دور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ سرخی پوڈر لگائے ،چھوٹے اور ناکافی کپڑے   پہنے ،انہیں یوں چارپائیوں  پر بیٹھے دعوتِ گناہ  دیتے دیکھ کر کچھ سمجھتے ،کچھ نہ سمجھتے ہوئے دائیں جانب ٹاور کی طرف مڑا اور گھاس کے درمیان چھوٹی سی خشک پگڈنڈی پر چلتا ہوا گودام تک پہنچ گیا۔

اب وہ گودام کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا  جہاں اس کے سامنے گیٹ پر ایک داروغہ بندوق لیےاسٹول پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔سلام علیکم ..... لڑکے نے سلام کیا ۔۔۔۔۔وعلیکم سلام ۔۔داروغہ نے جواب دیا اور متفسرانہ نگاہوں سے اسے گھورنے لگا۔۔۔۔یہ سیٹھ جعفر صاحب کا گودام ہے؟ ۔۔۔۔لڑکے نے پوچھا وہ بولا ہاں کیوں کیا کام ہے؟ ۔۔چاچو جی مجھے اپنے ابو سے ملنا ہے وہ ادھر ہی کام کرتے ہیں بڑی دور سے آیا ہوں .... لڑکے نے ملتجی  لہجے میں کہا ۔۔۔۔  داروغہ نے اس کی بات سن کر اپنی رعب دار آواز میں کہا۔۔۔۔پہلی بات یہ کہ پچھلے ہفتے  سارے مزدور گجرات چلے گئے ہیں ،صاحب نے ان سب کو وہاں دوسرے گودام میں بھیج دیا ہے یہاں کوئی نہیں ہے دوسری بات یہ کہ اگر یہاں کام ہو رہا ہوتا  تب بھی شام چھ بجے سے پہلے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں  ہے لہاذا  اب تم یہاں سے نو گیارہ ہو جاؤ ۔۔۔شاباش ۔۔۔داروغہ کےبہ ظاہر نرم مگر تحکم آمیز رویہ ،سفر کی تھکن گرمی کی شدت اور حوصلہ شکن جواب نےگو اسے انتہائی مایوس کر دیا تھامگر وہ بحث کرنے لگا ۔۔۔مگر اس کے ہر سوال پر داروغہ کا جواب نفی میں تھا ۔ابھی یہ بحث جاری ہی تھی کہ اس اثنا  میں ایک کار گودام کے بڑے دروازے پہ آ رُکی۔ ۔ داروغہ  تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا  اور کھڑے ہو کر کار والے کو سیلوٹ کیا ۔۔تیزی سے دوڑ کر اس نے گودام کا دروازہ کھولا۔۔ کار میں موجود شخص  جو سیٹھ جعفر تھا،نے کار کا شیشہ نیچےکیا اور داروغہ سے مخاطب ہوا۔۔ یہ لڑکا کون ہے یہاں کیوں کھڑا ہے؟ ۔۔۔۔صاحب ۔۔۔یہ لڑکا کہتا ہے کہ میں اپنے باپ کو ڈھونڈنے آیا  ہوں ۔۔وہ ادھر کام کرتا ہے ۔۔۔میں نے اس کو بتا تو دیا ہےمگر یہ ابھی تک کھڑا بحث کر رہا ہے ۔۔۔ داروغہ نے جواب دیا۔۔ ۔ہمم۔۔۔۔سیٹھ نے ایک بھرپور نظر لڑکے پہ ڈالی اور کہا اسے میرے دفتر  میں بھیج دو۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے گاڑی کو آگے بڑھایا اور گودام کی دہلیز پار کر گیا 

چل بھئی میرے ساتھ اندر آجا ۔۔۔داروغہ نے اسے ساتھ لیا ۔کچھ فاصلے پر ہی سامنےموجود  دفتر کی طرف اشارا کیا اور واپس پلٹ گیا۔دفتر کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔ لڑکا دفتر جھجھکتے قدموں سے اندر پہنچ گیا ۔ سامنے کرسی پہ بیٹھاسیٹھ جعفر کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا اس نے لڑکے کو دیکھا اور کرسی پربیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ چند منٹوں  بعد فون پہ بات ختم کرکے فون میز پر رکھا  اور لڑکے  کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔کیا نام ہے تمہارے باپ کا؟ ۔۔۔۔لڑکے نے سیٹھ کی نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی نظریں زمین  کی طرف  گاڑ دیں اور تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔۔۔جی فضل دین نام ہے  ان کا ۔۔۔۔۔
لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے سیٹھ جعفرکی آنکھوں  میں ہوس کی سرخی دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔اچھا تو تم فضل دین کے بیٹے ہو !!! ۔۔۔۔۔جی ہاں صاحب۔۔۔۔ امی جی بیمار تھیں اور ابو نے نہ پیسے بھجوائے نہ  ہی خود آئے میری استانی نے سختی سے ساتھ کہا ہے کہ پرسوں اسکول کی فیس لے کر آنا ۔۔۔ اب نہ پیسے ہیں نہ ابو ہی آرہے ہیں تو امی جی نے مجھے بھیجا کہ ابو کا پتہ کر کے آؤ ۔۔۔ میں نے تو بس کا کرایہ بھی انڈے بیچ کر اکھٹا کیا تھا۔۔۔آپ مجھے بتائیں ابو کہاں ہیں اور اب تک آئے کیوں نہیں ؟۔۔۔۔لڑکے نے اپنی داستان بیان کرتے ہوئے سوالات کی بارش کر دی ۔سیٹھ جعفراپنی کرسی سے اُٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھا اور کہا تمہارے باپ اگلے ہفتے تک آ جائے گا اور رہی پیسوں کی بات تو میں تمہیں پیسے دے دیتا ہوں مگر تمہیں میرا ایک چھوٹا سا کام کرنا پڑے گا ۔یہ کہتے ہوئے سیٹھ کا لہجہ کافی حد تک بدل چکا تھا اس کی آنکھوں میں ہوس کی بھوک بہت بڑھ چکی تھی۔لڑکا  کچھ نہ سمجھتے ہوئے گویا ہوا کون سا کام صاحب جی؟ ۔۔سیٹھ جعفرکرسی سے اٹھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔۔میرے ساتھ آؤ دوسرے کمرے میں۔۔۔۔ باقی باتیں وہیں کرتے ہیں۔ سیٹھ لڑکے کوبازو سے پکڑ کر زبردستی گھسیٹتے  ہوئے دفتر کے پچھلے کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ تقریباً بیس پچیس منٹ بعد جب سیٹھ جعفر زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں میں ہوس کی سرخی ہلکی ہو چکی تھی  اورکمرے کے فرش پہ برہنہ لیٹا ایک غریب و معصوم لڑکا نہ نظر آنے والا خون صاف کرتا ہوا اپنی سسکیوں کو روکنے کی نا کام کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔!!!!

ساحل فخر

بدھ، 9 مارچ، 2016